زر پاشی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - دولت لٹانا، سخاوت اور فیاضی کا مظاہرہ کرنا، بے دریغ پیسہ خرچ کرنا۔ "اس قسم کے کام امراء اور سلاطین زمانہ کی زرپاشیوں سے انجام پائے ہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، حیات سلیمان، ١٣٠ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'زر' کے ساتھ فارسی مصدر 'پاشیدن' سے صیغۂ امر 'پاش' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سےمرکب 'زرپاشی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٢٠ کو "برید فرنگ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دولت لٹانا، سخاوت اور فیاضی کا مظاہرہ کرنا، بے دریغ پیسہ خرچ کرنا۔ "اس قسم کے کام امراء اور سلاطین زمانہ کی زرپاشیوں سے انجام پائے ہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، حیات سلیمان، ١٣٠ )

جنس: مؤنث